لکھنؤ، 16؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ہائی کورٹ نے 19؍جون تک سابق وزیر گایتری پرجاپتی کے لکھنؤ میں واقع غیر قانونی آشیانے کو منہدم کرنے اور اس کی معلومات دینے کی ہدایت دی ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ایل ڈی اے سے کہا کہ اس معاملے میں وہ مجرم حکام کے خلاف ایکشن لے۔سماجوادی حکومت میں کابینہ وزیر رہے گایتری پرجاپتی کا لکھنؤ کے صالح نگر میں غیر قانونی مکان ہے، جسے 23؍مئی کو ہی ایل ڈی اے کی عدالتی اتھارٹی نے منہدم کرنے کی ہدایت دی تھی ، لیکن گایتری پرجاپتی کے بیٹے انوراگ نے اس ہدایت کو کمشنر کے یہاں چیلنج دے دیا تھا، لیکن راحت نہیں ملی، تو انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔اب ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ دیتے ہوئے اس مکان کو منہدم کرنے کی ہدایت دی ہے۔دراصل، گایتری پرجاپتی کے اس رہائشی پلاٹ پر کمرشیل تعمیر چل رہی تھی ، لیکن وزیر کے اثرورسوخ کی وجہ سے انجینئر افسر ان پنی آنکھیں موند رکھی تھی ۔بتایا جا رہا ہے کہ ہر ماہ انجینئر اور افسران اس غیر قانونی تعمیر سے اچھی خاصی وصولی بھی کر رہے تھے۔گایتری پرجاپتی کا یہ آشیانہ ایل ڈی اے کے ناک کے نیچے بن رہا تھا، لیکن اب یہ جلد ہی زمین بوس ہو جائے گا۔لکھنؤ شہر میں اگر اعداد و شمار کو دیکھیں تو تقریبا 10ہزار عمارتوں کا نقشہ پاس نہیں ہے۔ساتھ ہی تقریبا 20ہزار گھروں کے نقشے اور تعمیر میں کافی فرق ہے، گزشتہ پانچ سالوں میں صرف 500تعمیر ات کو منہدم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ تعمیل ہونے والوں کی تعداد انتہائی کم رہی۔